پردیس میں ماں کی یاد

آج ماں کی یاد آئی ایسے،  کھلی آنکھوں سے دیکھا ہو سپنا جیسے

اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی وہ تصویر،  میری آنکھوں کو بے خود جگانے لگی

بن کے خوشبو میرے چارسو یہ فضا،  اسکی موجودگی کو جتانے لگی

اسکے سوہنے ماتھے کی وہ سوھنی شکن،  آتے ہوئے بے اختیار چوما تھا جسے

آج کہنے مجھے آتی تھی اوبے خبر،  تیرے بوسے کی لاج سے ہوئی دوبھر

آ کے دکھلا جا تو اپنی صورت پل بھر،  یاد کرتی ہے تجھے تیری مومو شب بھر

سکوں راحت فضلِ خدا کیا نہیں ہے ماں۔۔۔۔

سچ پوچھو تو بس ایک خدا نہیں ہے ماں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *